190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت ، میں نے کہا تھا جب میرے وکلا آئیں تو میں آجاؤں گا : عمران خان کا ردعمل

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج کی باتوں کا جواب دیا ہے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ توشہ خانہ کیس ٹو میں کوئی جرم کا عنصر موجود نہیں اور یہ ٹرائل فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف جھوٹے مقدمات کی ایک لمبی فہرست چل رہی ہے۔ فیصل چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے جج کے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ڈھائی گھنٹے انتظار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے پہلے ٹرائل کا آغاز ممکن نہیں ہوتا، اور صبح 9 بجے اطلاع ملی کہ جج صاحب آئے ہیں تو انہوں نے وکلا کی موجودگی کے بارے میں دریافت کیا۔ وکلا کی غیرموجودگی پر انہوں نے کہا کہ جب ان کے وکلا پہنچیں گے تو انہیں اطلاع دی جائے تاکہ وہ پیش ہو سکیں، لیکن اچانک معلوم ہوا کہ جج واپس جا چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں

وکیل نے مزید کہا کہ عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں احتجاجی آوازوں کو دہشتگردی قرار دیا جا رہا ہے اور سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مذاکراتی کمیٹی کے سامنے ان کے مطالبات واضح ہیں، اور انہوں نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل کو زیادتی قرار دیا۔

جیل میں سہولیات کی کمی

فیصل چوہدری نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو جیل میں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں، ان کا ٹی وی بند کر دیا گیا ہے، اور تین مہینے میں صرف ایک مرتبہ ملاقات کرائی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی بچوں سے بات پانچ مہینے بعد کروائی گئی، اور انہیں تین ہفتے قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

کیس کی سماعت میں تاخیر

گزشتہ روز احتساب عدالت میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کی غیرحاضری کے باعث فیصلہ ایک بار پھر مؤخر کر دیا گیا۔ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید نے کہا کہ فیصلہ تیار تھا اور دستخط بھی ہو چکے تھے، لیکن نہ تو عمران خان آئے، نہ بشریٰ بی بی اور نہ ہی ان کے وکلا یا کوئی فیملی ممبر۔ عدالت نے انہیں پیش ہونے کا ایک اور موقع دیتے ہوئے سماعت کی تاریخ 17 جنوری مقرر کر دی ہے۔ یہ فیصلہ پہلے 23 دسمبر، پھر 6 جنوری اور 13 جنوری کو سنائے جانے کے لیے مقرر کیا جا چکا ہے۔