اسٹیبلشمنٹ کو صرف اتھارٹی قائم کرنا ہے جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں،مولانا فضل الرحمان

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مقصد اپنی اتھارٹی کو مستحکم رکھنا ہے، چاہے اس کے لیے کسی اصول کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی میرے لیے قابل احترام ہیں۔ وہ حال ہی میں ایکٹ کی وضاحت کے لیے میرے گھر تشریف لائے تھے۔ دلچسپ انداز میں انہوں نے کہا، "خالد مقبول وزیر تعلیم ہیں، لیکن اس وقت میرے گھر میں زیر تعلیم ہیں۔”

انہوں نے سیاست دانوں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہمیں شکایت اپنے رہنماؤں سے ہے جو آئین اور قانون کی پاسداری سے غافل ہیں۔ ان کے نزدیک اقتدار کی ہوس نے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ حکومت کی مدت پوری کرنا اہم نہیں، کیونکہ مارشل لا بھی کئی دہائیوں تک جاری رہا ہے، لیکن اصل مسئلہ عوامی مینڈیٹ اور جمہوری روایات کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے 9 مئی کیسز میں ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

مدارس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق قانون سازی مکمل ہو چکی ہے اور صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انہیں ریلیف دیا گیا ہے، جس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ تاہم، حکومت نے بعض مدارس کو اپنے قابو میں لانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جو فکر مند کرنے والے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کا رویہ ابھی تک نہیں بدلا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ایسے امیدوار کو کامیاب کروایا گیا جو ایک پولنگ اسٹیشن سے بھی جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اسٹیبلشمنٹ عوامی ووٹ کا مذاق اڑاتی ہے، تو عوام کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اس کا مذاق اڑائیں۔ ان کے بقول، اسٹیبلشمنٹ کا غیر سیاسی رہنا درحقیقت ایک سیاسی عمل ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری ہے، ورنہ موجودہ صورتحال عوام کے اعتماد کو مزید متزلزل کر دے گی۔