ٹرمپ ایران کے خلاف فیصلہ کن آپشنز کے خواہاں، امریکی جنگی تیاریوں میں تیزی کا دعویٰ
واشنگٹن/مشرقِ وسطیٰ: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت اور فیصلہ کن آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
امریکی اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں اور ایک امریکی ایئرکرافٹ کیریئر بھی خطے کی جانب روانہ ہو رہا ہے، جسے واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک تیاریوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کے معاملے پر ایسی حکمتِ عملی چاہتے ہیں جو نہ صرف دباؤ بڑھائے بلکہ ممکنہ طور پر تیز اور مؤثر ردعمل کی صلاحیت بھی فراہم کرے۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر تشویش اور قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں خطے کی صورتحال مزید حساس ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل ایک انٹرویو میں اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف انتہائی سخت اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جلد ہی امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہوگا، جو نہ صرف کسی ممکنہ کارروائی کو آسان بنا سکتا ہے بلکہ ایران کی جانب سے کسی ردعمل کی صورت میں دفاعی تیاریوں کو بھی مضبوط کرے گا۔
سیاسی اور عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی نقل و حرکت اور سخت بیانات سے خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اس امر پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
