ایک فیصد امیروں کے علاوہ بھارتیوں کی حالت افریقہ سے بھی بدتر ہے، ورلڈ ہنگر انڈیکس

اہم خبریںدنیا

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا اپنے ملک کو ’’عالمی معاشی طاقت‘‘ قرار دینے کا دعویٰ عالمی اعداد و شمار کے سامنے بےنقاب ہو گیا ہے۔

ورلڈ ہنگر انڈیکس (Global Hunger Index) 2024 کی رپورٹ نے بھارت کی زمینی حقیقت آشکار کر دی، جس کے مطابق 127 ممالک میں سے بھارت کا نمبر 105 ہے، یعنی بھارت بھوک جیسے بنیادی انسانی مسئلے کے لحاظ سے دنیا کے پسماندہ ترین ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔

غذائی قلت اور غربت: مودی حکومت کی معاشی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت

رپورٹ کے مطابق اگر بھارت کے صرف ایک فیصد امیر طبقے کو الگ کر دیا جائے تو باقی عوام کی معاشی حالت افریقہ کے غریب ترین ممالک سے بھی بدتر دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کی مجموعی دولت کا 40 فیصد صرف ایک فیصد طبقے کے ہاتھوں میں مرکوز ہے، جبکہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے پاس صرف 3 فیصد دولت ہے۔ ملک کے تقریباً 70 کروڑ شہری غذائی قلت کا شکار ہیں۔

مزدوروں کی حالت زار

ورلڈ ہنگر انڈیکس کے مطابق بھارت کی 90 فیصد لیبر فورس کو مقرر کردہ اجرت سے کم تنخواہ دی جا رہی ہے۔ 27 فیصد سے زائد بھارتی شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو مودی حکومت کی معاشی پالیسیاں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔

خودکشیوں میں خطرناک اضافہ، ذہنی صحت کا بحران

غربت، بےروزگاری اور قرض جیسے مسائل کی وجہ سے بھارت میں خودکشیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسانوں اور شہری علاقوں میں متوسط طبقے کے افراد کی جانب سے اجتماعی خودکشیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہریانہ کے ایک خاندان کے 7 افراد نے کار میں زہر کھا کر خودکشی کر لی۔ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں زندگی گزارنا کتنا کٹھن ہو چکا ہے، اور کس حد تک مایوسی اور محرومی عوام میں سرایت کر چکی ہے۔