9 ماہ خلا میں گزارنے کے بعد جب خلا بازوں نے زمین پر قدم رکھا تو ڈولفنز نے ان کا انوکھا استقبال کیا، جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
امریکی خلاباز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور 9 ماہ کے غیر متوقع خلائی مشن کے بعد بحفاظت زمین پر واپس آگئے ہیں۔
ان کے ساتھ ناسا کے خلاء باز نک ہیگ اور روسی خلائی ایجنسی روسکو سموس کے خلاء باز الیگزینڈر گوربونوف بھی موجود تھے، ان سب نے ناسا اسپیس ایکس کریو-9 ٹیم کی حیثیت سے کام کیا۔
خلاباز ایلون مسک کے اسپیس ایکس ڈریگن خلائی جہاز کے ذریعے فلوریڈا کے ساحل پر بحفاظت اترے۔
خلابازوں کی واپسی پر ایک حیرت انگیز منظر اس وقت پیش آیا جب اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول کے ارد گرد ڈولفنز کو پانی میں تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ خوبصورت لمحہ نہ صرف حیران کن تھا بلکہ دل کو چھو لینے والا بھی تھا۔ اس منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
کیپسول پانی میں اترنے کے بعد، ریکوری ٹیم نے اسے بحفاظت نکال لیا اور پھر مہینوں بعد پہلی بار اس کے سائیڈ ہیچ کو کھولا گیا۔
خلاباز کیپسول سے باہر آئے اور انہیں فوری طور پر ہیوسٹن لے جایا گیا جہاں وہ 45 دن کے ریکوری پروگرام میں شامل ہوں گے۔
یہ مشن پہلے صرف 8 دن کے لیے طے کیا گیا تھا لیکن بوئنگ کے اسٹار لائنر کیپسول میں تکنیکی خرابی کے باعث خلابازوں کو 9 ماہ تک خلا میں رہنا پڑا۔
جون 2024 میں خلا میں جانے والے دونوں خلابازوں کی واپسی کا سفر غیر یقینی تھا کیونکہ اسٹار لائنر کیپسول کو پروپلشن کے مسائل کا سامنا تھا۔
مہینوں کی تاخیر اور تیاریوں کے بعد، خلا میں ٹیم کے لیے ریسکیو مشن بالآخر اتوار کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گیا، جس سے سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کی واپسی ممکن ہوئی۔
کریو-9 کی کامیاب واپسی کے ساتھ ہی کریو-10 نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر اپنی ذمے داریاں سنبھال لی ہیں، یہ نیا مشن وہاں اہم سائنسی تجربات اور تحقیقی سرگرمیاں انجام دے گا۔