ٹرمپ کی حلف برداری آج، 2 بائبل اور تقریب سے متعلق وہ تمام پہلو جو جاننا ضروری ہیں
ڈونلڈ ٹرمپ آج دوسری بار امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔
اس تاریخی موقع پر ان کی حلف برداری کی تقریب واشنگٹن ڈی سی میں امریکی آئین کے مطابق منعقد کی جائے گی۔ امریکی چیف جسٹس جان رابرٹس ٹرمپ سے عہدے کا حلف لیں گے، جبکہ جے ڈی وینس بھی نائب صدر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔
کیا تیاریاں کی گئی ہیں؟
حلف برداری کی تقریب میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، اور سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے تین کلومیٹر تک کا علاقہ گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ امریکی دارالحکومت میں آج درجہ حرارت منفی 11 ڈگری تک گرنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ اوپن ایئر کے بجائے عمارت کے اندر روٹنڈا ہال میں حلف اٹھائیں گے۔ کیپٹل ہل کی عمارت میں تقریب میں صرف 600 افراد کو شرکت کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
تقریب میں موسیقی کی پرفارمنس اور مختلف تقاریر بھی شامل ہوں گی، جن میں ٹرمپ اپنے اگلے چار سالوں کے اہداف کا اعلان کریں گے۔
تقریب میں کون کون شریک ہورہا ہے؟
سابق صدور اور غیر ملکی سربراہان مملکت کے علاوہ ٹرمپ کے اہم ساتھی اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔
اس کے علاوہ ایمازون کے بانی جیف بیزوس، فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ اور ایپل کے سی ای او ٹم کک بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بھی حلف برداری کی دعوت دی گئی ہے، اور پاکستان تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ اٹلی کی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اگر وقت ملا تو وہ بھی واشنگٹن جائیں گی۔
چینی سوشل میڈیا کمپنی ٹک ٹاک کے سربراہ شو چیو بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔
ٹرمپ 2 بائبل پر حلف کیوں لیں گے؟
ٹرمپ کی حلف برداری کے دن کا آغاز واشنگٹن ڈی سی میں لافائیٹ سکوائر کے تاریخی سینٹ جان چرچ میں ایک دعائیہ تقریب سے ہوگا، جس کے بعد وائٹ ہاؤس میں چائے کا اہتمام کیا جائے گا۔ مرکزی تقریب کا آغاز کیپیٹل کے ویسٹ لان میں ہوگا، جہاں موسیقی کی پرفارمنس اور افتتاحی کلمات پیش کیے جائیں گے۔
ٹرمپ کی حلف برداری کے دوران وہ دو بائبلوں پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھائیں گے، ایک بائبل جو انہیں 1955 میں ان کی والدہ نے دی تھی، جبکہ دوسری بائبل وہ لنکن بائبل ہے جو 1861 میں 16ویں امریکی صدر ابراہم لنکن نے حلف اٹھانے کے لیے استعمال کی تھی۔
