کیٹ ونسلیٹ نے شوٹنگ کے دوران پانی کے اندر 7 منٹ تک سانس روکنے کے بعد کیا سوال کیا؟

انٹرٹینمنٹ

اداکارہ کیٹ ونسلیٹ نے ہدایتکار جیمز کیمرون کے ساتھ 1997 میں فلم ٹائٹینک میں کام کیا جو اس وقت کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ثابت ہوئی۔

کیٹ ونسلیٹ نے ٹائٹینک سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی اور اب یہ دونوں اوتار دی وے آف واٹر کے لیے دوبارہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔

فلم اوتار کا دوسرا حصہ 16 دسمبر کو ریلیز ہو رہا ہے اور اس بارے میں کیٹ ونسلیٹ نے حیران کن انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ فلم کے تربیتی سیشن کے دوران انہوں نے 7 منٹ اور 15 سیکنڈ تک پانی کے اندر سانس روک کرحیرت انگیز کارنامہ سرانجام دیا۔

اس نئی فلم کا زیادہ تر حصہ سمندر پر مبنی ہے اور یہی وجہ ہے کہ کاسٹ نے اس کردار کے لیے مفت غوطہ لگانا سیکھا اور ساتھ ہی سانس روکنے کی تربیت بھی لی۔

ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو کے دوران کیٹ ونسلیٹ کی 7 منٹ 15 سیکنڈ تک پانی کے اندر سانس روکے ہوئے کی ویڈیو دکھائی گئی۔

ویڈیو میں دکھایا گیا کہ سانس روکنے کی ورزش کے بعد اداکارہ نے پوچھا، ‘کیا میں مر گئی ہوں؟

‘ جب کیٹ ونسلیٹ کو جب معلوم ہوا کہ وہ کتنی دیر تک اپنی سانسیں روکے ہوئے تھیں، تو وہ بہت خوش ہو گئیں۔

ٹی وی شو کے دوران جب اداکارہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے یہ کیسے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے تو یہ وہ کام نہیں ہے جسے آپ نہاتے ہوئے کر سکتے ہیں، یہ ایسا کچھ نہیں ہے جسے آپ خود کریں

انہوں نے مزید کہا، ‘میں نے اس کے لیے 3 ہفتے تک ٹریننگ کی اور اس دوران میں نے ہر روز سیکھا کہ جسم میں آکسیجن کیسے تقسیم ہوتی ہے، یہ ایک بہت تفصیلی اور غیر معمولی عمل ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ ٹام کروز کا 2015 کی فلم میں زیرآب 6 منٹ تک سانس روکنے کا ریکارڈ توڑنا آپ کو کیسا لگ رہا ہے تو کیٹ ونسلیٹ نے کہا کہ ‘ایک خاتون کے طور پر مجھے کچھ نیا سیکھنے پر ہمیشہ بہت اچھا محسوس ہوتا ہے’۔