ہرکسی سے جھگڑے کے بجائے تمام سٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے:بلاول کا وفاق کو مشورہ
لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو ملک میں سیاسی ہیجان ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سیاسی فریق کے ساتھ تصادم کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے گفتگو کی جائے۔ لاڑکانہ میں ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سربراہ نے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی، خیبر پختونخوا کی انتظامی حالت اور سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیل سے گفتگو کی۔
بلاول بھٹو زرداری مذاکرات کی اہم تفصیلات اور پس منظر
انسدادِ دہشت گردی اور پی ٹی آئی سے مذاکرات کی ضرورت
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ‘نیشنل ایکشن پلان تھری’ کا معاہدہ مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اس پر دستخط کرنے یا تعاون کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صوبائی حکومت قومی سلامتی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہو تو اس کا ملبہ وفاق یا وزیراعظم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی پر بات چیت کرے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور حل کا لائحہ عمل
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے خیبر پختونخوا میں سیاسی و انتظامی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان امن و امان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوئی مضبوط اور پائیدار معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو وہ خود وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خدشات یا اقدامات کو ختم کرنے کی سفارش کریں گے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ملکی مفاد اور عوام کی سیکیورٹی کو سیاسی اختلافات پر ترجیح ملنی چاہیے اور تمام فریقین کو قومی سلامتی کے معاملے پر سنجیدگی دکھانی ہوگی۔
سندھ میں صحت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے حکومتی اقدامات
لاڑکانہ میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ سندھ حکومت صوبے بھر میں طبی سہولیات کے معیار کو بہتر بنا رہی ہے۔ لاڑکانہ میں نئے ہسپتال کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ سندھ کے ساتھ ساتھ بلوچستان سے آنے والے مریضوں کو بھی معیاری اور مفت علاج فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی غریب شہری کو محض فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث علاج سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔ اعلیٰ تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت جامعات کو 45 ارب روپے کی بھاری گرانٹ دے رہی ہے تاکہ تعلیمی اداروں کو مالی بحران سے نکالا جا سکے، تاہم اس کے باوجود انتظامی بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے۔
لاڑکانہ کے بنیادی انفراسٹرکچر اور پانی کے منصوبے
خطاب کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ شہر کے بنیادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یہاں واٹر سپلائی اور ڈرینیج کے جو منصوبے دیے تھے، آبادی میں اضافے کے باعث وہ موجودہ ضروریات کے لیے ناکافی ہو چکے ہیں۔ فی الوقت لاڑکانہ کے شہری ٹیوب ویل کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت لاڑکانہ اور قمبر شہداد کوٹ میں واٹر سپلائی اور سیوریج کے تمام معطل و نئے منصوبوں کو تیز رفتار سے مکمل کر رہی ہے اور اگلے ایک سے دو برسوں میں پینے کے صاف پانی اور نکاسیِ آب کا دیرینہ مسئلہ مکمل طور پر حل کر لیا جائے گا۔
