وفاقی حکومت کا صوبوں سے غیر رجسٹرڈ مدارس کی تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد / کراچی: وفاقی حکومت نے ملک بھر میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے چاروں صوبوں سے غیر رجسٹرڈ مدارس کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں متعلقہ صوبائی محکموں نے اس حوالے سے اقدامات شروع کر دیے ہیں، اور محکمہ داخلہ سندھ نے بھی صوبے بھر کے مدارس کا ڈیٹا مرتب کر لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تمام صوبائی حکومتوں کو یہ واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ مدارس کی رجسٹریشن کا یہ عمل آئندہ تین ماہ کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں تعلیمی اداروں بالخصوص دینی مدارس کے انتظامی امور کو شفاف بنانا اور قانون کے دائرے میں لانا ہے۔
غیر رجسٹرڈ مدارس کی اہم تفصیلات اور پس منظر
رجسٹریشن کے لیے انٹیلی جنس کمیٹی سے کلیئرنس لازمی
حکومت کی طرف سے جاری کردہ نئی پالیسی اور ضابطہ کار کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کے لیے اب روایتی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کے امور کو بھی انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ نئے احکامات کے مطابق کسی بھی مدرسے کی رجسٹریشن اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک متعلقہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اور مجاز انٹیلی جنس کمیٹی کی طرف سے باضابطہ کلیئرنس یا این او سی جاری نہیں کیا جاتا۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام دینی ادارے قانون کی پاسداری کریں اور اندرونی سلامتی کے ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس شرط سے مدارس کے نظام کو مزید منظم کرنے میں مدد ملے گی اور کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی ابہام کو دور کیا جا سکے گا۔
سندھ بھر اور کراچی کے مدارس کے اعداد و شمار
سرکاری ریکارڈ کے مطابق صوبہ سندھ میں کل مدارس کی تعداد 6 ہزار 368 ہے جن میں سے 6 ہزار 273 مدارس رجسٹرڈ ہیں جبکہ 695 مدارس ابھی تک غیر رجسٹرڈ ہیں۔ صوبے کے دارالحکومت کراچی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہاں کل دو ہزار 443 مدارس موجود ہیں جن میں سے ایک ہزار 905 رجسٹرڈ اور 538 غیر رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اعداد و شمار سے یہ بھی انکشاف ہوتا ہے کہ سندھ بھر کے رجسٹرڈ مدارس میں اس وقت مجموعی طور پر 6 لاکھ 15 ہزار 306 طلبہ دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مسالک کی بنیاد پر تقسیم کے حوالے سے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ میں دیوبند مسلک کے کل 4 ہزار 240 مدارس میں سے 312 غیر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ بریلوی مسلک کے دو ہزار 357 مدارس میں سے 341 مدارس ایسے ہیں جن کی رجسٹریشن تاحال مکمل نہیں ہو سکی ہے۔
انتظامیہ اور حکام کا موقف
متعلقہ حکام اور وزارت داخلہ کا اس حوالے سے موقف ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا عمل کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نہیں بلکہ یہ ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں اور محکمہ ہائے داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تین ماہ کی مقررہ مدت کے اندر اندر تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کو ضابطے کے تحت لانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں تاکہ ملک بھر میں مدارس کا ایک شفاف اور مربوط نظام قائم کیا جا سکے اور تمام طالب علموں کو معیاری اور قانونی ماحول فراہم ہو۔
