ملتان میں موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے 9 سال مکمل، 4 لاکھ سے زائد ایمرجنسیز میں ریسپانس
ملتان: ریسکیو 1122 کی موٹر بائیک ایمبولینس سروس نے ملتان میں اپنی شاندار کارکردگی کے 9 سال کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے ہیں۔ 4 نومبر 2017 کو شروع ہونے والی اس سروس نے اپنے قیام سے لے کر اب تک شہر کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے ہنگامی واقعات میں بروقت امدادی کارروائیاں انجام دی ہیں۔ اس عرصے کے دوران سروس نے مجموعی طور پر 4 لاکھ 23 ہزار 551 ہنگامی واقعات میں فوری رسپانس کیا، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ 55 ہزار 192 افراد کو ریسکیو کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
ملتان کی اہم تفصیلات اور پس منظر
تقریب کا انعقاد اور ریسکیورز کی خدمات کا اعتراف
موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے نو سال مکمل ہونے پر ملتان میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ریسکیورز کی غیر معمولی خدمات کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد ان جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جنہوں نے کٹھن حالات، شدید ٹریفک اور چیلنجنگ ماحول میں جان کی پرواہ کیے بغیر انسانیت کی خدمت کی۔ اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں میں تعریفی اسناد اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں تاکہ ان کے جذبے کو مزید تقویت مل سکے۔
تنگ گلیوں اور رش والے علاقوں میں فوری رسائی کی افادیت
ملتان جیسے تاریخی اور گنجان آباد شہر میں جہاں اندرونِ شہر کی تنگ گلیاں اور بازار ٹریفک کے شدید دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں بڑی ایمبولینسز کا بروقت پہنچنا اکثر ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے شروع کی جانے والی موٹر بائیک ایمبولینس سروس انتہائی کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ موٹر سائیکل پر تعینات تربیت یافتہ ریسکیورز نہ صرف ہنگامی بنیادوں پر جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچتے ہیں بلکہ وہ فوری طور پر ابتدائی طبی امداد بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے شدید زخمیوں یا مریضوں کی جان بچانے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر یہ عملہ بڑی ایمبولینس کو طلب کرنے اور مریض کو قریبی اسپتال منتقل کرنے میں بھی معاونت فراہم کرتا ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی اور کارکردگی کے اعدادوشمار
اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق سامنے آنے والے اعدادوشمار ملتان میں ہنگامی طبی امداد کے نظام کے اندر موٹر بائیک ایمبولینس سروس کی اہمیت اور افادیت کو واضح طور پر آشکار کرتے ہیں۔ نو سالوں میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد کو مدد فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ سروس شہریوں کی اولین ضرورت بن چکی ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کا عزم ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سروس کو مزید جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال میں مزید تیز اور معیاری طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
