پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت نہیں کرے گی،مشیر وزیراعظم
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف 28ویں آئینی ترمیم اور صوبوں کے معاملے پر حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اچھے طریقے سے سمجھا ہے اور سفارتکاری کا تقاضا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے رہنے چاہئیں۔
رانا ثناء اللہ 28ویں ترمیم کی اہم تفصیلات اور پس منظر
امریکہ، ایران اور سعودی عرب سے ریاستی تعلقات
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ہماری پالیسی صرف ٹرمپ سے اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔ مخالفین کہتے تھے کہ ٹرمپ آئے گا تو پتہ چل جائے گا اور ہمیں ٹرمپ سے ڈرایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹرمپ سے کوئی دوستی نہیں کی بلکہ صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے اور معرکہ حق میں کردار ادا کیا، جسے ہم نے تسلیم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے پاکستان نے جتنی کوششیں کیں کسی نے نہیں کیں۔ ایران بھی پاکستان پر اعتماد کر رہا ہے اور ہمیں سعودی عرب کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ ہمارے امریکہ، ایران اور سعودی عرب سے تعلقات شخصیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاستی سطح کے ہیں۔
نئے صوبوں اور پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر گفتگو
نئے انتظامی یونٹس اور سیاسی امور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو دعوت دی تھی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں نئے صوبوں سمیت تمام مسائل پر بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس اور خودمختار بلدیاتی نظام بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، اس لیے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے اور اس کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بننی چاہیے۔ اس پارلیمانی کمیٹی میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے اور پارلیمنٹ سے باہر موجود افراد کو بھی اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا چاہیے اور جب اتفاق رائے کا وقت آئے گا تو ن لیگ اس میں بھرپور کردار ادا کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان سے تعلقات اور سیاسی صورتحال
مولانا فضل الرحمان سے متعلق امور پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے کبھی اپنے بندے کو گورنر لگانے کا نہیں کہا اور نہ ہی خیبر پختونخوا کے اقتدار میں کوئی حصہ مانگا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو خیبر پختونخوا کے معاملات کے حوالے سے ساتھ ملانا چاہیے۔ مولانا اور ان کے بیٹے کو نوٹس بھجوائے گئے ہیں جن سے وہ متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراس فائر بند ہونی چاہیے اور مولانا فضل الرحمان سے کوئی حساب نہیں چکانا۔ دہشتگردی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے اور شہدا کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہمیں اس جنگ پر پوری توجہ دینی چاہیے۔
