پی ایس ایل 2027 جنوری میں کرانے کی تجویز، شیڈول پر اہم مشاورت شروع

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینکھیل

 پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کی تمام آٹھ فرنچائزز کے مالکان نے آئندہ ایڈیشن کو جنوری اور فروری کے دوران کرانے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے، تاہم نئے شیڈول کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

پی ایس ایل کے مستقبل کے شیڈول سے متعلق یہ معاملہ یکم ستمبر کو لندن میں ہونے والے پاکستان سپر لیگ گورننگ کونسل کے اجلاس میں زیرِ بحث آیا۔ اجلاس میں پی سی بی، فرنچائزز اور لیگ کے میڈیا رائٹس سے متعلق فریقین نے آئندہ سیزن کے لیے ممکنہ ونڈو پر تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹس کے مطابق پی ایس ایل کو موجودہ اپریل، مئی کی ونڈو سے نکال کر سال کے ابتدائی مہینوں میں منتقل کرنے کی تجویز ولی ٹیکنالوجیز کی جانب سے سامنے آئی، جو پاکستان میں لیگ کے میڈیا رائٹس رکھتی ہے۔ براڈکاسٹر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اپریل اور مئی میں بھارتی پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی موجودگی اور اشتہاری مارکیٹ کے حالات کے باعث پی ایس ایل کو مطلوبہ تجارتی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔

پی ایس ایل گزشتہ دو ایڈیشنز کے دوران اپریل، مئی میں منعقد ہوئی، تاہم اس عرصے میں آئی پی ایل کے ساتھ براہِ راست ٹکراؤ نے لیگ کی کمرشل سرگرمیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔

میڈیا رائٹس ہولڈر کی جانب سے اجلاس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اپریل اور مئی کے دوران بڑی کرکٹ لیگ کی وجہ سے ٹی وی ناظرین، اسپانسرز اور اشتہاری مارکیٹ کی توجہ تقسیم ہوجاتی ہے، جس سے پی ایس ایل کی اشتہاری آمدنی متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی پس منظر میں جنوری یا جنوری، فروری کی ونڈو کو ایک ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فرنچائزز کا اصل سوال براڈکاسٹ آمدنی

دوسری جانب فرنچائز مالکان نے شیڈول تبدیل کرنے سے قبل اپنی مالی آمدنی کے تحفظ پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ذرائع کے مطابق فرنچائزز یہ یقین دہانی چاہتی ہیں کہ پی ایس ایل اگر جنوری میں منتقل کی جاتی ہے تو انہیں مرکزی ریونیو پول سے ملنے والی براڈکاسٹ آمدنی میں ان کا موجودہ حصہ متاثر نہیں ہوگا۔

موجودہ معاہدے کے تحت آٹھوں فرنچائزز کو مرکزی ریونیو پول سے حاصل ہونے والی براڈکاسٹ آمدنی کا 95 فیصد حصہ ملتا ہے۔ فرنچائز مالکان کی تشویش یہ ہے کہ اگر نئی ونڈو میں میڈیا اور اشتہاری آمدنی توقعات کے مطابق نہ رہی تو اس کا اثر لیگ کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی آمدنی پر پڑ سکتا ہے۔

جنوری میں انعقاد کے فائدے اور چیلنجز

جنوری، فروری میں پی ایس ایل کرانے کی صورت میں لیگ کو آئی پی ایل کے ساتھ براہِ راست مقابلے سے بڑی حد تک بچنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس سے اسپانسرشپ اور اشتہارات کے شعبے میں بہتر تجارتی نتائج کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔

تاہم دوسری جانب جنوری کی ونڈو اپنے ساتھ کچھ نئے چیلنجز بھی لاسکتی ہے، خصوصاً کھلاڑیوں کی دستیابی کے حوالے سے۔ پی ایس ایل کی ابتدائی تاریخ میں فروری، مارچ کا وقت استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن اسی ونڈو میں دیگر بین الاقوامی اور ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی وجہ سے غیر ملکی کھلاڑیوں کی دستیابی ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایک تجویز یہ بھی زیرِ بحث آئی کہ اگر ٹورنامنٹ جنوری میں شروع کیا جاتا ہے تو ابتدائی میچز نسبتاً معتدل موسم والے کراچی میں رکھے جائیں اور بعد میں موسم کی شدت کم ہونے کے ساتھ لیگ کو پنجاب اور پشاور منتقل کیا جائے۔

پی ایس ایل کی تاریخ میں ایک اور تبدیلی

پاکستان سپر لیگ 2016 میں شروع ہونے کے بعد مسلسل فروری، مارچ کے دوران کھیلی جاتی رہی، تاہم 2025 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے لیگ کی ونڈو اپریل، مئی میں منتقل کرنا پڑی۔

اسی تبدیلی کے نتیجے میں پی ایس ایل کو آئی پی ایل کے ساتھ ایک ہی عرصے میں کرانے کی صورتحال پیدا ہوئی۔ اب بورڈ اور فرنچائزز کے سامنے سوال یہ ہے کہ آیا لیگ کو دوبارہ ابتدائی سال کی ونڈو میں واپس لایا جائے یا موجودہ شیڈول ہی برقرار رکھا جائے۔

حتمی فیصلہ ابھی باقی

رپورٹس کے مطابق لندن اجلاس میں جنوری، فروری کی تجویز پر تفصیلی مشاورت ہوئی، تاہم تمام فریقین کے درمیان کسی حتمی اتفاقِ رائے کی اطلاع نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پی ایس ایل 2027 لازماً جنوری میں ہی منعقد ہوگی۔

حتمی فیصلہ پی سی بی، فرنچائزز اور متعلقہ تجارتی فریقین کے درمیان مزید بات چیت، مالی معاملات اور ممکنہ دستیاب ونڈو کا جائزہ لینے کے بعد متوقع ہے۔

اگر جنوری کی تجویز منظور ہوجاتی ہے تو یہ پی ایس ایل کے موجودہ شیڈول میں ایک اہم تبدیلی ہوگی اور لیگ کے تجارتی ڈھانچے، کھلاڑیوں کی دستیابی اور دیگر ٹی ٹوئنٹی لیگز کے ساتھ اس کے کیلنڈر پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔