آزاد کشمیر انتخابات: دھاندلی کے الزامات پر مریم نواز اور پیپلز پارٹی آمنے سامنے،لفظی جنگ شدت اختیار کرگئی
لاہور: آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔
مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ "دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر مائنڈ پیپلز پارٹی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟”
دوسری جانب پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی، جبکہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں بھی ہوتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن غیرجانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے ایک فریق کے حق میں کام کرتا دکھائی دیا اور انتخابات میں دھاندلی کی نئی مثال قائم کی گئی۔
حسن مرتضیٰ نے مریم نواز کا نام لیے بغیر مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف آزاد کشمیر میں وزارتِ عظمیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ اپنی ہی جماعت انہیں لاہور کے ایک ادارے کی سربراہی تک محدود کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی رہنما نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں اور فصلوں کی تباہی، شہری مسائل، گندم کی درآمد اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے معاملات پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی آزاد کشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابات کو شفاف قرار دیا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی انتخابی عمل پر اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہے۔
