دریائے چناب میں پانی کم، مگر خطرہ برقرار، ملتان کی نشیبی بستیاں زیرِ آب، متاثرین کی امداد کی اپیل

تازہ ترینساؤتھ نیوزویڈیوز

ملتان: دریائے چناب میں سیلابی ریلے کی شدت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے اور پانی کا بہاؤ کم ہو کر 1 لاکھ 10 ہزار کیوسک رہ گیا ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی الرٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کے مطابق اگرچہ دریائے چناب میں طغیانی معمول پر آ رہی ہے، تاہم دریائی بیلٹ میں قائم متعدد نشیبی بستیاں اب بھی پانی کی زد میں ہیں، اس لیے تمام متعلقہ محکمے مکمل الرٹ ہیں۔ انہوں نے دریائی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو احتیاط برتنے اور صرف مستند سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز مختلف منظر پیش کر رہی ہیں۔ گھنٹہ گھر بستی سرور والا اور مورا والا سپر سمیت کئی نشیبی آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت نجی کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں، بزرگوں، مویشیوں اور گھریلو سامان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری سطح پر فوری امداد یا کشتیوں کی سہولت میسر نہیں، جس کی وجہ سے وہ ذاتی اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔

سیلابی پانی سے آم کے باغات، مکئی، تل اور اروی سمیت متعدد فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ زمینداروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اطلاع مل جاتی تو وہ اپنی فصلوں اور سامان کو محفوظ مقام پر منتقل کر سکتے تھے۔

متاثرہ افراد کے مطابق نجی کشتیوں کے ذریعے سامان کی منتقلی کے لیے فی بوری تقریباً 200 روپے جبکہ فی مسافر 100 سے 200 روپے تک کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر فلڈ ریلیف کیمپ قائم کرے، سرکاری کشتیاں فراہم کرے اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کرے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح معمول پر آنے تک تمام امدادی ادارے ہائی الرٹ رہیں گے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اور دیگر متعلقہ محکمے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔