پاکستان کی کرپٹو مائننگ کیلئے سستی بجلی کی تجویز آئی ایم ایف نے مسترد کر دی

پاکستانسائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس میں کرپٹو مائننگ، کاپر و ایلومینیم پگھلانے، اور ڈیٹا سینٹرز جیسی توانائی سے بھرپور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

سیکرٹری پاور کا سینیٹ میں انکشاف

سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں کیے گئے بڑے فیصلوں کو آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان کے پاس سردیوں میں اضافی بجلی موجود ہوتی ہے، لیکن آئی ایم ایف کسی بھی ایسے اقدام کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے جو مارکیٹ میں بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔


پاور ڈویژن کی مجوزہ اسکیم

نومبر 2024 میں شیئر کی گئی اسکیم میں پاور ڈویژن نے 22–23 روپے فی یونٹ کے حساب سے مخصوص صنعتوں کو بجلی فراہم کرنے کی تجویز دی تھی، تاکہ بجلی کی کھپت میں اضافہ ہو اور اضافی چارجز کی وصولی ممکن ہو سکے۔

تاہم، آئی ایم ایف نے اس تجویز کو ٹیکس چھوٹ سے مشابہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا، اور کہا کہ ایسے اقدامات سے توانائی کے شعبے میں مزید عدم توازن پیدا ہو گا۔


حکومت کی حکمت عملی: واپسی نہیں، بہتری کی کوشش

ڈاکٹر عرفان نے تصدیق کی کہ حکومت نے یہ تجویز واپس نہیں لی، بلکہ عالمی بینک اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ اسکیم کو بہتر بنایا جا سکے۔


شبلی فراز کی تنقید اور کمیٹی کی ناراضی

سینیٹر شبلی فراز نے اس پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کو قرض دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "اگر میں بینکر ہوتا، تو انکار کر دیتا۔”

کمیٹی نے وفاقی وزیر توانائی کی غیر حاضری پر بھی ناراضی کا اظہار کیا، جنہیں آئی پی پیز اور سیکٹر کی ناکامیوں سے متعلق سوالات کے جوابات دینا تھے۔


جبری لوڈ شیڈنگ پر سینیٹرز کی برہمی

کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز نے تھرپارکر، مٹیاری اور عمرکوٹ جیسے علاقوں میں 14 گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جہاں صارفین بل ادا کرنے کے باوجود شدید مشکلات کا شکار ہیں۔


ڈیٹ سروسنگ سرچارج جاری رہے گا

سیکرٹری پاور نے واضح کیا کہ کوئی نئی لیوی عائد نہیں کی گئی، اور موجودہ 3.23 روپے فی یونٹ ڈیٹ سروسنگ سرچارج (DSS) آئندہ 5 سے 6 سال تک جاری رہے گا۔


ٹیکس محصولات میں 42 فیصد اضافہ، وزیراعظم کی تعریف

دوسری جانب، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی ٹیکس محصولات میں 42 فیصد اضافے پر ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

اسلام آباد میں ایف بی آر کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال میں 865 ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کیے گئے۔


عوام سے عزت و وقار سے پیش آنے کی ہدایت

وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ عوام اور تاجر برادری سے عزت و احترام سے پیش آیا جائے اور نئے مالی سال میں محصولات کے اہداف کے حصول کے لیے مکمل سنجیدگی سے کام کیا جائے۔