میر عطا الرحمن مینگل کے قتل کی ایف آئی آر میں اسداللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کے بیٹے نامزد
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے وڈھ میں معروف قبائلی اور سیاسی رہنما میر عطاالرحمان مینگل کے قتل کا مقدمہ مینگل قبیلے کی ہی اہم شخصیات پر درج ہونے کے بعد صوبے کی سیاسی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایف آئی آر میں بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیٹے میر گورگین مینگل، ان کے بھتیجے اور قبیلے کے سربراہ اسداللہ مینگل سمیت چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ ایف آئی آر محمد جان ولد عبدالواحد کی مدعیت میں وڈھ کے علاقے آڑنجی کے لیویز تھانے میں درج کی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد مسلح ہو کر آئے، اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں میر عطاالرحمان موقع پر جاں بحق جبکہ ان کے بیٹے مطیع الرحمان شدید زخمی ہو گئے۔
بی ایل اے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود ایف آئی آر میں سیاسی نام شامل
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔ اس کے باوجود ایف آئی آر میں سردار اختر مینگل کے قریبی رشتہ داروں اور حامیوں کو نامزد کیے جانے پر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس ایف آئی آر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے "بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی” قرار دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ،
"اس مقدمے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے، پھر بھی پارٹی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کرنا سیاسی انتقام کی بو دیتا ہے۔”
آغا حسن نے مزید کہا کہ یہ مقدمہ بی این پی کی بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد کو دبانے کی ایک سازش ہے اور پارٹی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔
میر عطاالرحمان مینگل: سیاسی، قبائلی اور نظریاتی طور پر سرگرم شخصیت
میر عطاالرحمان کا شمار خضدار کے اہم قبائلی و سیاسی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان کے سابق نگراں وزیر اعلیٰ میر نصیر مینگل کے بیٹے اور جھالاوان عوامی پینل کے سربراہ میر شفیق الرحمان مینگل کے بھائی تھے۔
میر شفیق الرحمان مینگل اور ان کا خاندان طویل عرصے سے کالعدم علیحدگی پسند تنظیموں کے سخت مخالف رہے ہیں اور ان کا شمار ریاست کے حامی قبائل میں ہوتا ہے۔
ماضی میں بی ایل اے کے حملوں میں ان کے خاندان اور حامیوں کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔ 2011 میں کوئٹہ میں میر شفیق مینگل کی رہائش گاہ پر بی ایل اے کے مجید بریگیڈ کی طرف سے ہونے والے خودکش حملے میں ان کے 14 قریبی حامی مارے گئے تھے۔
اعلیٰ عسکری و حکومتی قیادت کا دورۂ وڈھ
واقعے کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم نے وڈھ کا دورہ کیا۔ انہوں نے سابق نگران وزیر اعلیٰ میر نصیر مینگل اور میر شفیق الرحمان مینگل سے تعزیت کی، جو اس واقعے سے گہرے دکھ اور غم میں مبتلا ہیں۔
سیاسی اثرات اور قبائلی کشیدگی
میر عطاالرحمان مینگل کے قتل اور بعد ازاں ایف آئی آر میں سردار اختر مینگل کے خاندان کے افراد کو نامزد کیے جانے سے نہ صرف وڈھ بلکہ پورے خضدار میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ بلوچستان کی پہلے سے ہی نازک سیاسی اور قبائلی صورتحال کو مزید الجھا سکتا ہے۔
