پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کیوں دی؟ قیادت نے وجوہات بیان کر دیں

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی کال کے بعد بھی بجٹ 2025-26 کی منظوری نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ اب پارٹی رہنماؤں نے اس فیصلے کے پس منظر اور اس کے مقاصد پر وضاحت پیش کر دی ہے۔

بجٹ میں ترامیم اور عوامی ریلیف حاصل کیا: شرمیلا فاروقی

پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ پارٹی نے بجٹ کی منظوری مشروط طور پر دی کیونکہ اس میں کئی اہم ترامیم کروائی گئیں۔ ان کے مطابق:

"ہم نے بجٹ میں سولر پینلز پر ٹیکس کی چھوٹ، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور کچھ دیگر عوامی مفادات کی شقیں شامل کروائیں۔ بجٹ کی مخالفت کا مطلب ان ریلیف اقدامات کو روکنا ہوتا۔”

تحریک انصاف چاہتی تھی حکومت گرے: سحر کامران

رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے بجٹ کی منظوری پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا:

"تحریک انصاف چاہتی تھی کہ ہم بجٹ کو سپورٹ نہ کریں اور حکومت گر جائے، لیکن ہم ایسا کھیل جمہوریت کے ساتھ نہیں کھیلنا چاہتے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ:

"ہم جمہوریت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ اس میں خلل ڈالنا۔ پی ٹی آئی والے آج بھی قیدی نمبر 804 کے گرد ہی گھوم رہے ہیں، ہم آگے بڑھنے کے حق میں ہیں۔”

وفاقی حکومت جو کچھ دے رہی ہے، قرضے لے کر دے رہی ہے، وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس

جمہوریت کو بچانے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی قیادت نے بجٹ کی حمایت کو ایک جمہوری و پارلیمانی فیصلہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد حکومت کو گرانا نہیں بلکہ نظام کو چلانا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے حکومت پر دباؤ ڈال کر اپنے مطالبات تسلیم کروائے، اور اس کے بعد ہی بجٹ کی حمایت کی۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری کا فیصلہ حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت نے بتایا کہ حکومت نے ان کی کئی تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے بجٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ خاص طور پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 20 فیصد اضافہ اور سولر پینل پر ٹیکس کی شرح میں کمی جیسی اہم ترامیم پیپلز پارٹی کی سفارشات پر کی گئیں۔

اس کے علاوہ، سالانہ 12 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے طبقے کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا ہے اور بجٹ کو فلاحی قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ابتدا میں بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن مذاکرات کے بعد یہ تحفظات دور کر لیے گئے اور اس لیے انہوں نے قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دیا