سائنس فکشن سے حقیقت تک، وولوناٹ کی اُڑنے والی موٹر سائیکل نے دنیا کو حیران کر دیا
فلموں میں اُڑتی ہوئی موٹر سائیکلیں اب صرف خیالات کی بات نہیں رہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کمپنی Volonaut نے سائنس فکشن کو حقیقت میں بدلتے ہوئے اپنی نئی Airbike متعارف کرا دی ہے — ایک سلِیک، جیٹ پاورڈ فلائنگ موٹر بائیک جو آسمانوں میں دوڑنے کے لیے تیار ہے۔
کمپنی کے مطابق، یہ فیوچرسٹک سپر بائیک 124 میل فی گھنٹہ (تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے پرواز کر سکتی ہے۔
ایئر بائیک کو کاربن فائبر اور تھری ڈی پرنٹڈ پارٹس سے تیار کیا گیا ہے، جس کی بدولت اس کا وزن ایک عام موٹر سائیکل سے سات گنا کم ہے۔
اس کا منفرد اور اوپن ایئر ڈیزائن اسے باقی تمام فلائنگ وہیکلز سے مختلف بناتا ہے۔
نہ کوئی فریم، نہ گرد و نواح میں پروپیلرز — رائیڈر کو صرف ایک ہیلمٹ پہننا ہوتا ہے اور وہ بائیک پر آگے کی طرف جھک کر اُڑان بھر لیتا ہے، بالکل ایک سپر بائیک کی طرح۔
یہ ڈیزائن نہ صرف ایرونامک ہے بلکہ اتنا کمپیکٹ بھی ہے کہ یہ باآسانی تنگ جگہوں سے گزر سکتی ہے۔
حال ہی میں، وولوناٹ کے کو-فاؤنڈر Tomasz Patan نے خود اس ایئر بائیک کو کامیابی سے ویلیز، جنگلات اور خشک جھیلوں کے کنارے پر اُڑایا — اور نہ صرف سوفٹ ٹیک آف کیا بلکہ بغیر کسی بیرونی مدد کے لینڈنگ بھی کی۔
جہاں اس بائیک کا انداز اور رفتار سب کو حیران کر رہی ہے، وہیں اس کے پروپلشن سسٹم کی تفصیلات ابھی تک خفیہ رکھی گئی ہیں۔
کمپنی نے پرائسنگ اور کمرشل ریلیز کے حوالے سے بھی کوئی تاریخ جاری نہیں کی، لیکن عالمی سطح پر اس ایجادات نے پہلے ہی ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا، تو یہ ایئر بائیک نہ صرف سفر کا انداز بدل سکتی ہے بلکہ شہری ٹرانسپورٹ کے تصور کو بھی مکمل طور پر ری ڈیزائن کر سکتی ہے۔
