بنگلہ دیش، جبری گمشدگیوں کے الزام میں حسینہ واجد کے دوسری بار وارنٹ گرفتاری جاری

اہم خبریںتازہ تریندنیا

بنگلہ دیش کی عدالت نے جبری گمشدگیوں میں مبینہ کردار کے الزام میں جلاوطن سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف دوسرا وارنٹ گرفتاری جاری کر دیا ہے۔

یہ وارنٹ اس وقت جاری کیا گیا ہے جب حسینہ واجد کی حکومت میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں، جن میں سیاسی مخالفین کی گرفتاری، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔

ڈھاکہ کی عدالت پہلے ہی 77 سالہ حسینہ واجد کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی ہے، اور اب ان کے دور حکومت میں جبری گمشدگیوں کے معاملے میں دوسرا وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔

آئی ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، یہ وارنٹ ڈومیسٹک انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) کے چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام کی طرف سے اس بات کی نشاندہی کے بعد جاری کیے گئے ہیں کہ حسینہ واجد کے دور حکومت میں جبری گمشدگیاں کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ، سابق حکومت کے 11 دیگر اہلکاروں کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔ حسینہ واجد گزشتہ سال طالب علموں کی قیادت میں انقلاب کے بعد بھارت فرار ہو گئی تھیں، جب ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔