پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کا امکان، جدہ میں اہم سربراہی ملاقات آج متوقع

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی ملاقات میں دفاعی تعاون پر اہم پیش رفت کا امکان،مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور علاقائی سلامتی پر بھی مشاورت متوقع

جدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ جمعہ کو جدہ میں ہونے والی اعلیٰ سطح کی سربراہی ملاقات کے دوران طے پا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دفاعی و سیکیورٹی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے کی حتمی تفصیلات ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب پہنچ چکے

وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست کے سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کی بھی جمعہ کو جدہ آمد متوقع ہے، جہاں تینوں ممالک کی قیادت اہم علاقائی اور دفاعی امور پر مشاورت کرے گی۔

علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون ایجنڈے میں شامل

رپورٹس کے مطابق مجوزہ سربراہی اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر کی سلامتی، دفاعی تعاون اور خطے میں استحکام جیسے اہم موضوعات زیر غور آئیں گے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل اور امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ ترکیہ بھی غزہ اور مشرق وسطیٰ سے متعلق سفارتی سرگرمیوں میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

معاہدہ دفاعی شراکت داری کو نئی جہت دے سکتا ہے

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ سہ فریقی معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب اس سے قبل 2025 میں دوطرفہ دفاعی معاہدہ کر چکے ہیں، جبکہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں خلیجی ممالک کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کو وسعت دی ہے۔ مجوزہ سہ فریقی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی، عسکری تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں روابط مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے، تاہم اس کی حتمی نوعیت معاہدے کے سرکاری متن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔